جب جنرل سرفراز علی جنوبی وزیرستان جیسے حساس اور مشکل علاقے میں ذمہ دار تعیناتی پر تھےتو اُن کے۔۔۔

ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ جب جنرل سرفراز علی جنوبی وزیرستان جیسے حساس اور مشکل علاقے میں ذمہ دار تعیناتی پر تھے، تو اُن کے سامنے قبائلی دباؤ، سیاسی سفارشیں اور وقتی مصلحتیں سب موجود تھیں۔ مگر جنرل سرفراز علیؒ نے واضح انداز میں کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ چاہے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو، وہ نہ کسی کی غیرقانونی سفارش مانتے تھے اور نہ ہی ریاستی امانت میں ذرا سی خیانت گوارا کرتے تھے۔ ترقیاتی فنڈز، امن معاہدے یا سیکیورٹی فیصلے—ہر چیز میں اُن کا معیار یہی تھا کہ فیصلہ سچ اور قانون کے مطابق ہو۔
ایک اور پہلو یہ تھا کہ وہ ماتحت افسران اور جوانوں سے کہتے تھے کہ اگر کہیں ریاستی وسائل میں بے ایمانی نظر آئے تو فوراً رپورٹ کریں، کیونکہ امانت میں خیانت قوموں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے زیرِ کمان علاقوں میں نظم و ضبط بہتر ہوا اور لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔
سال 2022 میں ڈیوٹی کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں اُن کی شہادت نے پوری قوم کو غمگین کر دیا، مگر اُن کی سچائی اور امانت داری کی مثالیں آج بھی ایک معیار کی طرح یاد کی جاتی ہیں—کہ اصل عزت عہدے میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔