سیالکوٹ جیل میں عمر قید کی سزا پانے والی خاتون کی حیران کن کہانی اس کے پانچ بچے تھے اور ایک بچہ پیٹ میں تھا جب خاوند

عمر قید کی سزا یافتہ سیالکوٹ جیل میں بند ایک خاتون قیدی کی حیران کن کہانی : پڑھی لکھی یہ خاتون جیل میں خواتین قیدیوں کو پڑھانے پر مامور ہے ، بقول اس خاتون کے ۔۔۔۔۔ میں اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی تھی ، ہمارے 5 بجے تھے اور چھٹا بچہ میرے پیٹ میں تھا جب میرے خاوند ق۔ت۔ل ہو گئے ، الزام میرے اوپر لگا کیونکہ میں نے محبت کی شادی کی تھی اور اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھی ، میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی میرا کوئی بھائی بھی نہیں تھا والد وفات پا چکے تھے ، کون میرا کیس لڑتا چنانچہ عدالت نے مجھے عمر قید کی سزا سنا دی ، میرے پانچ بچے اپنی نانی کے پاس رہتے ہیں ، ایک بیٹی جو جیل میں پیدا ہوئی وہ میرے پاس ہے ، میرے پاس رہائی کی پیشکش ہے ، میرے بچوں کی پھوپھیاں کہتی ہیں کہ اگر میں اپنے شوہر کی جائیداد سے اپنے حصے سے دستبردار ہو جاؤں تو مجھے معافی مل سکتی ہے لیکن میں اپنے بچوں کا سوچ کر یہاں بیٹھی ہوں ، اگر 6 بچوں کا حق چھوڑ دوں تو یہ انکے ساتھ زیا۔دتی ہو گی ، میری قسمت میں دکھ تھے کوئی بات نہیں لیکن بچوں کے لیے کم از کم یہ تو کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔