میرپورخاص کے قریب جھلوری میں امام مسجد کی سات سالہ بچی کی

جھلوری میر پور خاص ( سندھ) پاکستان
میں ایک غریب انسان امام مسجد کی معصوم بچی دس سالہ آمنہ کو سکول جاتے ہوئے غواء کرلیا گیا۔۔
والد پولیس اسٹیشن جاکر سر پٹختا رہا ۔پولیس کے کان پہ جوں نہیں رینگی۔۔
پانچ دن تک پولیس قاتل کی سہولت کار بنی رہی ۔سہولت کاری اور کسے کہتے ہیں؟ چھوٹا سا علاقہ ہو بچی محلے کے اندر ہو۔پولیس چین کی بانسری بجائے مجرم کو موقع دے ۔
ظالم بچی کو چیر پھاڑ کرتے رہے ۔دس سال کی بچی کو پانچ دن ریپ تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔اسے بھوکا پیاسا رکھا۔
چھٹے دن بچی کی لاش بوری میں بند ملی۔۔جب عوام نے احتجاج کیا۔پولیس نے وہ بندہ پکڑ کے منہ ڈھانپ کے عوام کو دکھادیا۔۔جس کا واقعے سے تعلق ہی نہیں ہے
بچی کے جوتے کپڑے پولیس کے یار موسیٰ نامی شخص کے گھر سے ملے ۔۔
اور پولیس نے پکڑا زاھد نامی شخص کو ۔۔
بچی کو پانچ دن بھوکا پیاسا رکھ کر اسے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
سوچیں ۔۔۔ہاں سوچیں اپنی بچی کے بارے میں۔۔ رات کو بجلی چلی جائے میری پندرہ سالہ بچی امی امی کرتی ہے ۔
کیسے تڑپی ہوگی بچی ۔؟
اور پھر اسے پلاسٹک کی ٹیوب سے گلا گھونٹ دیا گیا۔