چکوال سے برآمد ہونے والی حافظ قرآن بچے کی نعش کا معمہ حل

دو دن قبل چکوال سے جو ایک حافظ قرآن بچے کی لاش ملی جیسے جانوروں نے نوچ نوچ کر کھایا ہوا تھا اس کو مارنے والا اور کوئی نہیں اس کا ظالم سوتیلا باپ تھا جس کا نام مبشر ہے۔

اس شخص کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ نکاح پہ نکاح کرتا تھا اور اس خاتون کی جائیداد ہڑپ کرتا تھا ۔

مزمل کی والدہ سے اس کا تیسرا نکاح تھا اس رات مزمل جب نانی اماں کی وفات کا سن کر گھر آیا تو اس سے پہلے مزمل کے سوتیلے باپ نے اس بچے کی والدہ پہ دباؤ ڈالا کہ

تمہارے حصے میں والد کی طرف سے جائیداد آتی ہے تو تم اسے میرے نام کردو تو مزمل کی والدہ نے کہا کہ یہ جائیداد اس بچے کی ہے ۔

تب جب مزمل نانی کا انتقال سن کر آیا تو اس رات مبشر نے ایک کام کے بہانے مزمل کو ساتھ لیا اور ایک ویرانے میں تیز دھار آلہ سے اس کی گردن اڑا دی اس کے بعد سلفیورک ایسڈ یعنی ڈال کر چہرہ مسخ کردیا ۔

اور پھر ایک کھیت کے درمیان پھینک دیا جہاں جانور پرندے اسکو نوچتے رہے ۔۔۔۔۔ کل رات پولیس نے مبشر کی لتر پریڈ کی تو اس نے تمام بات اگل دی کہ میں نے کیا ہے ۔
مزمل کی ڈیڈ باڈی دیکھ کر مجھ جیسے لاکھوں لوگوں نے انصاف کی آواز اٹھائی
اس کے بعد ابھی خبر ملی ہے کہ سی سی ڈی والوں نے مزمل کس انصاف دے دیا ہے یہ پولیس حراست سے بھاگتا ہوا مارا گیا ہے ۔
شکر ہے دل کو سکون مل گیا اور شکریہ آپ سب کی آواز اٹھانے کا ۔