
میں اپیل کرتی ہوں اگر کوئی مجھے جیل سے رہا کروا سکتا ہے تو میری مدد کرے ۔۔۔۔ شارجہ میں بطور کیشئر کام کرنے والی اسلام آباد کی 30 سالہ حنا کی اپیل ۔۔۔۔ حنا کو 2 سال قبل پشاور سے من شیات کیس میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا اس وقت پشاور جیل میں بند ہیں ، ماسٹرز تک تعلیم یافتہ حنا شارجہ سے چھٹی پر اسلام آباد اپنے گھر آئی تو والدہ کی بیماری کے لیے سی ایم ایچ پشاور کی ایک لیڈی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے کر انہیں ملنے آئی تھی ، کسی نے سازش کی اور من شیات کا بیگ میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا ، بوڑھے اور بیمار والدین ہیں جو مجھے ملنے بھی نہیں آسکتے، ایک بھائی ہے وہ بھی کچھ نہیں کر سکا ، شارجہ میں جس ہوٹل میں بطور کیشیئر کام کرتی تھی یہ بھی پاکستانی کمپنی تھی مگر انہیں میرے حالات کا علم بھی نہیں ۔سارے ثبوت ان کے پاس موجود ہیں مگر کوئی اچھا وکیل نہیں مل رہا وہ جیل میں ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نہیں کرسکتیں ۔ حنا کا کیس عدالت میں چل رہا ہے مگر وکیل کو پیسے سے علاوہ کسی چیز سے مطلب نہیں ۔۔۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میزی زندگی کا سوال ہے اگر کوئی پاکستانی میری مدد کرسکتا ہے تو مجھے اس جیل سے رہا کروا دے ۔۔۔۔ 2 سال سے پشاور جیل میں موجود اسلام آباد کی 30 سالہ حنا کی اپیل۔