لاہور کے ایک کروڑ پتی خاندان کی بیٹی کیسے عبرت کا نشان بن گئی

چھوٹی سی غلطی ، عمر بھر کا پچھتاوا : لاہور کے ایک کروڑ پتی خاندان کی بیٹی کو ایسا زوال کہ سب وسائل کے ہوتے ہوئے بھی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئی ۔۔۔ سلمیٰ نامی اس خاتون کے والد اندرون و بیرون ملک نوکری کرتے رہے ، لاہور کے ایک گنجان علاقے میں انکا بڑا سا گھر ہے ، کبھی یہ گھر آباد تھا آج اس گھر کا لینٹر گر رہا ہے مگر اس کی اکلوتی مالکن کی اتنی ہمت نہیں کہ اسے پلستر کروا دے ، عالیشان گھر کے حالات ایسے ہیں کہ جھونپٹریاں بھی اس سے اچھی ہونگی ۔۔۔اس خاتون کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ انکی شادی ہوئی تو کچھ ماہ بعد والدہ کی بیماری کی وجہ سے گھر آگئیں ، شوہر بیچارہ چکر لگاتا رہا لیکن یہ واپسی پر رضا مند نہ ہوئیں ، پھر والد اور والدہ دونوں انتقال کر گئے ، آخری سہارا ایک بھائی تھا جو ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا مگر اسے ایک ذہنی عارضہ لاحق ہوا چنانچہ چند سال قبل یہ گھر سے نکلا اور آج تک واپس نہ آیا ، سلمیٰ اپنے بھائی کو ڈھونڈتی رہیں تھانے کچہری کے علاوہ خود لاہور کا کونہ کونہ چھان مارا مگر بھائی کا کچھ پتہ نہ چلا ، اب سلمیٰ بیگم اپنے بڑے سے گھر میں فقیروں جیسی زندگی گزار رہی ہیں ،انکے پاس گھر یعنی دیواریں اور اینٹین تو ہیں مگر نہ کوئی جمع پونچی اور نہ آمدن کے ذرائع ۔سارا دن سڑکوں پر ماری پھرتی ہیں ، انکے بقول وہ بھائی کو ڈھونڈتی ہیں ، مانگ کر شاپروں میں کھانا لے آتی ہیں اور گھر میں بیٹھ کر کھا لیتی ہیں اور پھر سو جاتی ہیں ۔۔۔یہ سچی کہانی نہ ظلم کی ہے اور نہ انصافی یا غربت کی ۔۔۔یہ کہانی عروج سے زوال کی ہے۔ رشتوں کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ، جو لوگ اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں انکا انجام جلد یا بدیر وہی ہوتا ہے جو اس سلمیٰ نامی خاتون کا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ ایک قیمتی جائیداد کی مالکن ہو کر یہ بھکاریوں جیسی زندگی گزار رہی ہیں ، ایک بہن بھی ہے جو انہیں بار بار اپنے پاس منتقل ہونے کا کہتی ہے مگر انہیں آج بھی رشتوں کی اہمیت کا احساس نہیں آج بھی یہ اپنے گھر کو چھوڑ کر جانے یا اسے بیچنے پر رضا مند نہیں ۔۔۔اللہ کریم اس خاتون کے حال پر رحم فرمائے آمین