ز۔نا نہیں نکاح کرو: اوکاڑہ کی ایک ایم بی بی ایس لیڈی ڈاکٹر کی خوبصورت پریم کہانی

ز۔نا نہیں نکاح کرو: اوکاڑہ کی ایک ایم بی بی ایس لیڈی ڈاکٹر کی خوبصورت پریم کہانی : اپنے ہی ہسپتال کے چائے والے سے شادی کر لی ، جسے چاہا اسے پالیا مگر کیسے ؟ کچھ سال پہلے کشور اوکاڑہ کے ایک ہسپتال میں ڈیوٹی کرتی تھیں ، سٹاف کو چائے پلانے پر جو لڑکا مامور تھا انکے دل کو بھا گیا ، کچھ ہفتے یہ سوچتی رہیں اور پھر ایک روز شہزاد نامی اس نوجوان سے نمبر مانگ لیا ۔ بہانہ یہ کیا کہ چائے منگوانی ہوتی ہے کبھی آپ ادھر نہیں ہوتے تو پریشانی ہوتی ہے ، ڈاکٹر صاحبہ شہزاد کے سٹیٹس لائک کرنے لگیں اور اکثر انکو تعریفی میسج کرنے لگیں ، کچھ ماہ گزرے تو کشور صاحبہ نے ایک روز شہزاد کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا آپ مجھے اچھے لگتے ہیں ، کیا آپ میرے ساتھ شادی کریں گے ۔۔۔۔ یہ سن کر شہزاد کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ دو تین دن ہسپتال سے غیر حاضر رہا ، تیسرے روز ڈاکٹر صاحبہ نے اسے فون کیا تو پتہ چلے شہزاد کو بخار ہے مگر ڈاکٹر صاحبہ سمجھ گئیں اور کہا آپ کو بخار ہے تو میں ڈاکٹر ہوں ، فوری طور پر ہسپتال آجائیں ورنہ میں آرہی ہون ۔۔۔شہزاد صاحب ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر صاحبہ نے انہیں سمجھایا کہ نہ میں آپ سے مذاق کررہی ہوں اور نہ آپ کو بیوقوف بنا رہی ہوں ، میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں آپ اپنے گھر والوں سے بات کریں ۔۔۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں کے مصداق شہزاد اور اسکے گھر والوں کو بھلاکیا اعتراض ہو سکتا تھا لیکن لیڈی ڈاکٹر کشور کی والدہ کو جب پتہ چلا کہ کشور ایک آفس بوائے یا چائے والے سے شادی کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے بہت شور شرابہ کیا ، بیٹی کو سمجھایا کہ ہم نے تم پر لاکھوں روپے خرچ کرکے تمہٰیں ڈاکٹر بنایا اور تم ایک چائے والے سے شادی کرنا چاہتی ہو جو نہ صرف غریب ہے بلکہ اس کا خاندانی پس منظر بھی قابل ذکر نہیں ۔۔۔لیکن ڈاکٹر صاحبہ پر اپنے پیار کی دھن سوار تھی انہوں نے اپنی بہن کو بتا دیا کہ میں شادی کرونگی تو شہزاد سے ورنہ پھر کچھ کر گزروں گی ۔۔۔۔۔ آخر گھر والوں نے ڈاکٹر صاحبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور ایک روز دھوم دھام سے شہزاد کی بارات آئی اور لیڈی ڈاکٹر کشور ، کشور شہزاد بن گئیں ۔۔۔۔۔ اب یہ جوڑا ہنسی خوشی اور خوشحال زندگی گزار رہا ہے اللہ کریم انکی خوشیاں سلامت رکھے آمی