
عمیری والی ویڈیو پر ایک خاتون وکیل کا کھلا ڈلا تبصرہ : افسوس کہ پیشاب والی جگہ کو پاکستانیوں نے اتنا اہم بنا لیا ہے کہ ہم اس سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے ۔عمیری کا اصل مشن عورت کے خاندان کو گندا کرنا تھا عورت سے گا۔لیاں پڑوا کر اس نے کر ڈالا۔
ویڈیو وائرل ہونے کی اصل وجہ یہی ہے : ایڈووکیٹ گلشن سلطانہ نے اصل حقائق سامنے رکھ دیے۔۔۔ گلشن سلطانہ ایڈووکیٹ کے مطابق عمیری نے ایک سازش کے تحت اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں مجبور عورت کو شر۔اب پلا کر اس سے بکواس کروائی ، اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال غلط ہے ۔۔۔۔نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ ویڈیو میں عورت بولتی رہی لیکن عمیری بہت کم بولا ، دوسری چیز یہ نوٹ کریں کہ خاتون عمیری کو نکاح کا کہہ رہی ہے اور اس نے یہ بات دو دفعہ کہی ، اس نے عمیری کو نکاح کرنے کے لیے اپنی زمین اسکے نام کرنے کا بھی لالچ دیا، اگر عورت گناہ کی عادی ہوتی تو وہ کبھی نکاح کی بات نہ کرتی ۔۔۔ نشا میں ہونے کی وجہ سے عورت کو کوئی ہوش نہ تھا جیسے شر۔اب پینے کے بعد ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے مگر لڑکا کہیں بھی ہوش وحواس سے باہر نظر نہ آیا ۔ اس ویڈیو پر گند پھیلانے کا الزام نہیں لگنا چاہیےکیونکہ معاشرہ اتنا گندہ ہے کہ یہ ویڈیو تو اسکا ذرا بھی نہیں ، گند کو کریدنے والا معاشرہ کیسے اچھا یا اسلامی کہلا سکتا ہے ، میں اگر آج یاابھی اسلامی قوانین اور حیا کے موضوع پر ویڈیو ڈالوں تو ہفتے میں شاید اسکے 100 ویوز بھی نہ آئیں کیونکہ لوگ ایسی چیزیں دیکھنا پسند نہیں کرتے ، جو ہمارے لوگ پسند کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔
تو پھر کیوں عمیری کو یا عورت کو گندا کہا جارہا ہے ، اپنے گریبانوں میں جھانکو بھائی ، کون کتنا حاجی یا حاجن ہے سب کو پتہ ہے۔۔۔ معاشرے کو صاف کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ایسے جرائم پر اسلامی سزائیں دی جائیں ، نکاح کو عام کیا جائے ، ایک سے زائد شادیوں کو ناپسندیدہ فعل نہ بنایا جائے ، عورتیں اپنے اصل فرض یعنی بچوں کی تربیت پر توجہ دیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عمیری یا اس کی معشوق جیسے نوجوان مرد عورتیں سامنے آئیں ، عمیری اور اس کی معشوقہ کے مسئلے کا بہترین حل یہ بھی کہ اس عورت کا پہلا نکاح ختم کرکے اسے عمیری کے نکاح میں دے دیا جائے ۔۔۔ زنا بالرضا کو معاشرے سے ختم کرنے کا یہ زبردست طریقہ ہے ۔۔اور پھر جن خواتین کی خواہش پوری نہیں ہوتی وہ اپنا اور گھر والوں کا منہ کالا کرنے کی بجائے طلاق لے کر من چاہا مرد شوہر بنا لیں ۔۔۔۔۔ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں یہ کیس نیا نہیں اور اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو ایسے کیس بار بار ہونگے ۔۔۔۔ایڈووکیٹ گلشن سلطانہ کے اس تبصرے اور تجاویز پر آپ کا کیا رد عمل ہے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔