
اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہن علیمہ خان سے متعلق بیانات پر پی ٹی آئی نے ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا۔
نجی خبررساں ادارے کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کے بیانات کا جائزہ لیا گیا اور پارٹی قیادت نے اڈیالہ ملاقاتوں کے بعد علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کیا۔ اس سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکشن لینے سے قبل پارٹی کی قیادت نے تمام انٹرویوز اور بیانات کی تفصیلات بھی منگوائیں، ویڈیوز اور بیانات کا جائزہ لینے کے بعد علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا۔اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے اہلخانہ سے متعلق کوئی بھی بیان برداشت نہیں کیا جائے گا۔تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے بہت سی باتیں کی ہیں، علی امین گنڈاپور نے بہت کچھ کہا، یقین دلاتا ہوں کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ کوئی قرض نہیں رکھا جائے گا لیکن آج وہ دن نہیں ہے، علی امین گنڈاپور کی تمام باتوں اور بیانات کا جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کو پارٹی سے فارغ کرنیکا فیصلہ کیا ہے
یاد رہے کہ نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے ایک بیان میں کہا تھا کہپارٹی کے اپنے لوگ ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کو گمراہ کر رہے اور انہیں اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے کہا عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے والے رہنما انہیں زمینی حقائق کے برعکس “عجیب و غریب کہانیاں” سنا کر خوش کرتے ہیں۔ خان صاحب کو بتایا جاتا ہے کہ پوری لیڈرشپ میدان میں تیار کھڑی ہے اور ملک میں انقلاب آ چکا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ 5 اکتوبر کو فیض آباد پل کے نیچے بمشکل 15 لوگ بھی موجود نہیں تھے۔اس ناکامی کے باوجود عمران خان کو جیل میں یہ رپورٹ دی گئی کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر 3 لاکھ سے زائد لوگ نکلے ہوئے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے اپنے ہی لوگ عمران خان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور انہیں دھوکہ دے رہے ہیں۔