
“ایمان” — جس کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
راولپنڈی کی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکی… جس کے بال زبردستی کاٹ کر، اس کی تذلیل کر کے خاک میں ملانے کی کوشش کی گئی۔
دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ 💔
کہا جا رہا ہے کہ یہ سب اس کے اپنے سابقہ دوستوں نے کیا، وہی لوگ جنہیں وہ کبھی اپنا سمجھتی تھی…
اور یہ سب صرف اس لیے کہ اس نے اپنی چوائس بدل لی، اپنے سرکل بدل لیے، نئی کمپنی جوائن کی، نئی دوستیاں بنائیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمارا معاشرہ ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ
🔹 Opposite gender دوستی ہمیشہ حدوں کی ضرورت رکھتی ہے
🔹 جہاں نیتیں صاف نہ ہوں، وہاں تعلق بوجھ بن جاتا ہے
🔹 غلط فہمیاں، اٹریکشن، حسد، کنٹرول — یہی بعد میں ظلم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں
لیکن کوئی بھی وجہ… کوئی بھی اختلاف… کوئی بھی غلطی…
کسی لڑکی کی عزت چھین لینے کا حق کسی کو نہیں دیتا۔
ایمان اگر ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھی، تو یہی حقیقت اسے اور زیادہ نازک بنا دیتی ہے…
کیونکہ ایسے گھرانوں کی بیٹیاں پہلے ہی ہزار خوف لے کر زندگی گزارتی ہیں۔
ان کی غلطی کبھی ان کے لیے “غلطی” نہیں بنتی — سزا بن جاتی ہے۔
پولیس اس کیس پر کام کر رہی ہے،
لیکن اصل انصاف تب ہو گا جب معاشرہ یہ طے کرے گا کہ کسی لڑکی کی عزت، غیرت، بال، جسم — بدلے کا ہتھیار نہیں ہیں۔
اللہ ہر بیٹی کی حفاظت فرمائے۔
اللہ ہر گھر کی عزت محفوظ رکھے۔
اور اللہ ایسے ظالموں کو عبرت ناک انجام تک پہنچائے۔ 🤲💔