ایک غریب گھرانے کا بیٹا، محنت اور لگن سے ایم بی بی ایس تک پہنچ جاتا ہے مگر ایک چھوٹی سی آزمائش

ایک غریب گھرانے کا #بیٹا، محنت اور لگن سے ایم بی بی ایس تک پہنچ جاتا ہے، پورے علاقے کا فخر بن جاتا ہے… لیکن #زندگی کی ایک چھوٹی سی آزمائش اسے سب کچھ چھین لیتی ہے۔
ڈاکٹر الیاس تلہ گنگ کا رہنے والا تھا۔ اللہ نے اسے زبان اور ذہانت ایسی عطا کی تھی کہ ابتدائی کلاسوں سے لے کر گریجویشن تک اس کی کارکردگی سب کو حیران کرتی رہی۔ جب اس نے میڈیکل کو کیریئر بنانے کا فیصلہ کیا تو سب سے بڑی رکاوٹ سامنے آئی – وسائل کی کمی۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے یہ راستہ ہمیشہ کانٹوں بھرا ہوتا ہے۔
اس کے #والدین سادہ لوگ تھے۔ والد مکینک تھے، چھوٹی سی ورکشاپ سے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ والدہ گھریلو خاتون، لیکن دونوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خواب پورے کرنے کے لیے کمر کس لی۔ #الیاس نے دن رات محنت کی اور #کرغزستان کی ایش لینتھیشیو میموریل میڈیکل یونیورسٹی میں #سکالرشپ حاصل کر لی۔
دوسرے سال کے امتحانات کے دوران اس کے والد انتقال کر گئے۔ گھر والوں نے اسے تسلی دی کہ امتحانات پورے کرو، والد کا خواب پورا کرو۔ افسوس، وہ #پاکستان نہ آ سکا، والد کا آخری دیدار اور جنازہ بھی نہ دیکھ سکا۔ وہ روتا رہا، لیکن محنت جاری رکھی۔ والدہ نے شوہر کی #وفات کے بعد گھریلو کام کرکے گھر چلایا۔
وقت گزرتا گیا۔ الیاس نے ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر تک پہنچ گیا۔ دسمبر 2024 میں اسے پیٹ میں درد شروع ہوا۔ شاید مہنگے علاج کے ڈر سے، یا کسی نامعلوم خوف سے، اس نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا۔ سوچا کہ ابھی #تعلیم مکمل ہو جائے، 6 سال بعد پاکستان جا کر والدہ سے ملے گا، والد کی قبر پر جا کر فاتحہ دے گا۔
جنوری 2025 میں فائنل امتحانات آئے۔ الیاس پیپر دیتا رہا، لیکن صحت بگڑتی جا رہی تھی۔ پیٹ کا درد ناقابل برداشت ہو گیا۔ روم میٹس نے دیکھا تو پریشان ہوئے۔ آخر ایک #دوست نے گھر والوں کو اطلاع دی۔ والدہ اور گھر والوں نے بہت کوشش کی، الیاس کو قائل کیا۔ آخری پیپر دیتے ہی وہ پاکستان واپس آیا۔
ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے سٹومک (معدے) کے #کینسر کی تشخیص کی۔ کینسر اندرونی طور پر پھیل چکا تھا، علاج ممکن نہیں تھا۔
یہ خبر گھر پر بم کی طرح گری۔ والدہ، جو 6 سال سے بیٹے کا انتظار کر رہی تھیں، اسے اس حالت میں دیکھ کر ٹوٹ گئیں۔ پورا خاندان اکٹھا ہو گیا۔ پاکستان بھر کے ہسپتالوں میں رابطے کیے، سب نے مدد کی کوشش کی، لیکن کچھ نہ ہو سکا۔ گھر میں قرآن خوانی، ذکر، صدقہ – سب جاری رہے۔
پھر خوشخبری آئی: الیاس کا ایم بی بی ایس کا فائنل رزلٹ آیا۔ اس نے امتحان پاس کر لیا تھا۔ اب وہ ڈاکٹر الیاس بن چکا تھا۔ والدین کا خواب پورا ہو گیا تھا۔ جب مارک شیٹ آئی تو وہ رو پڑا – بلکل رو کر۔ یہ صرف مارک شیٹ نہیں تھی، یہ والدین کی برسوں کی امید تھی، خاندان کا فخر تھا، بہنوں کا مان تھا۔
لیکن #اللہ کی مرضی الگ تھی۔ 25 اپریل 2025 کو #ڈاکٹر الیاس اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ڈگری مکمل ہونے کے محض دو ماہ بعد۔ جنازے کے مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔ آنکھیں اشکبار، پورا علاقہ سوگوار۔ وہ لڑکا جو علاقے کی آغوش میں پل کر ڈاکٹر بنا، اپنے ساتھ سارے خواب، ساری امیدیں اور خوشیاں لے کر چلا گیا۔
اللہ ڈاکٹر الیاس کی والدہ اور تمام سوگواروں کو صبر دے۔ تلہ گنگ جیسی جگہوں کو ایسے قابلِ فخر بیٹے عطا کرتا رہے جو ملک و قوم کا سرمایہ بنیں۔ آمین۔
(کامران جمیل)
یہ تحریر میری نہیں، لیکن اس نوجوان کی موت نے بہت تکلیف دی۔ کتنی محنت، کتنا عرقِ جبین، اور پھر بھی تشنہ رہ گیا۔ آپ بس اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں، گھر والوں کو صبر کی دعا دیں، اور دعا کریں کہ اللہ کسی کو ایسے مقام سے زندگی نہ چھینے جب وہ ساری عمر کی محنت کا صلہ پانے کے قابل ہو جائے۔