عدالت کا حکم نہیں مانو گے تو جیل بھیج دئیے جاؤ گے،عدالت کی سی سی ڈی افسران کو وارننگ جس پر۔۔۔۔

عدالت کا حکم نہیں مانو گے تو جیل بھیج دیے جاؤ گے ، عدالت کی سی سی ڈی افسران کو وارننگ ۔۔۔ ساہیوال کے ایک ہی خاندان کے 5 نوجوانوں کو مبینہ طور پر پار کرنے کا کیس سی سی ڈی کے گلے پڑ گیا ۔۔۔ تفصیلات کے مطابق سی سی ڈی لاہور نے ستمبر میں ساہیوال سے ایک ہی خاندان کے 5 نوجوان جن میں 3 سگے بھائی اور 2 ان کے کزن شامل تھے ان کو گرفتار کرکے لاہور لائی اور پھر انہیں ایک ایک کرکے پنجاب کے مختلف اضلاع کی سی سی ڈیز کے حوالے کردیا گیا جنہوں نے انہیں مبینہ جعلی مقابلوں میں پار کردیا۔
ان نوجوانوں کے والدین لاہور میں شیر پاؤ پل اور ریگل چوک کے قریب سی سی ڈی اور ایف آئی اے کے دفاتر میں چکر لگاتے رہے مگر انکی کسی نے بات نہ سنی ، پھر ان لواحقین کو اطلاع ملی کہ انکے بیٹے اور داماد پولیس مقابلے میں پار ہو گئے ہیں ، جب سی سی ڈی سے ان نوجوانوں کی لا۔شیں حوالے کرنے کو کہا گیا تو لا۔شیں بھی حوالے نہ کی گئیں، جب کہیں شنوائی نہ ہوئی تو لواحقین نے ایک وکیل آفتاب احمد باجوہ کے ذریعہ عدالت سے رجوع کیا ،آفتاب باجوہ نے یہ کیس اس وجہ سے لیا کہ پانچوں نوجوان پولیس کو کسی سنگین کیس میں مطلوب نہ تھے بلکہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا جج صاحب نے سی سی ڈی افسران کو طلب کیا اور ان نوجوانوں کی لا۔شوں کا پوچھا تو افسران پولیس نے ٹال مٹول کی جسکے بعد جج صاحب نے کہا کہ جب تک ان نوجوانوں کی لا۔شیں نہیں ملیں گی آپ کو عدالت سے جانے نہیں دیا جائے گا اگر لا۔شیں نہیں ملتیں تو آپ سب جیل جائیں گے ، اس کیس میں سی سی ڈی لاہور ، گوجرانوالہ، چنیوٹ ، کامونکی سمیت 5 اضلاع کی سی سی ڈی انوالو تھی ، چنانچہ عدالت کے حکم پر لاوارثوں کی طرح دفنائی گئی 2 ماہ پرانی لاشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں ، اب پانچ اضلاع کی سی سی ڈی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ان 5 جوانوں کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کا کیس چل رہا ہے ،۔۔۔یاد رہے کہ ان پانچ نوجوانوں کے 22 بچے تھے جو اپنے اپنے والد کی موت کے بعد یتیم ہو گئے ہیں ۔۔۔۔سٹوری سورس:اردو پوائنٹ