
پندرہ سالہ آٹھویں جماعت کی طالبہ مہوش کو گھر سے زبردستی اغوا کر لیا جاتا ہے۔ریکارڈ یافتہ جرائم پیشہ شاکر حجانہ اسے زبردستی عدالت اپنے حق میں بیان دلوانے لے آتا ہے بچی شور مچاتی ہے یہ مجھے اغواکرکے تشدد کے بعد لے آیا ہے،اغوا کار عدالت سے بھاگ جاتا ہے اور بچی ماں کے پاس چلی جاتی ہے۔پھر دوبارہ گھر سے اغوا کرکے لے جاتا ہے اور کوئی مدد کو نہیں پہنچتا
کوٹ ادو پولیس دونوں ایف آئی آر تو کاٹ لیتی ہے مگر ملزم آزاد بچی اغوا کار کے پاس۔
سوچیں یہ جرائم پیشہ کوٹ دو اور ڈی جی خان میں اتنا طاقتور کیوں ہے