
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں نومبر کے احتجاج سے متعلق پہلے مقدمے کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گیا ہے۔ اس مقدمے میں بانی پاکستان تحریک انصاف، بشریٰ بی بی، علیمہ خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، سابق صدرِ مملکت عارف علوی سمیت متعدد اہم شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں اب تک 12 ملزمان اعترافِ جرم کر کے اپنی سزائیں مکمل کر چکے ہیں، جبکہ 67 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 11 ملزمان اس وقت عدالت میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقدمے میں پراسیکیوشن ٹیم کی سربراہی پراسیکیوٹر سید ظہیر شاہ کر رہے ہیں۔
پیر کے روز انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے دو متفرق درخواستوں پر فیصلے سنانے کے بعد مقدمے کی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس موقع پر پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 8 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے۔
گواہوں میں سب انسپکٹر محمد ظہیر، آئی ٹی اسسٹنٹ بابر خان، سب انسپکٹر محمد اقبال، محرر محمد مرسلین، اے ایس آئی عارف محمود، ڈی ایف سی آصف حسین اور محرر راشد محمود شامل تھے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید 5 گواہان طلب کر لیے ہیں۔گواہان کے بیانات کے دوران علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔
عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران اہم گواہ ڈی ایف سی آصف حسین نے بیان دیا کہ ملزمان راجہ بشارت، سیمابیہ طاہر، راجہ ناصر محفوظ، وحید محفوظ، عاطف ریاض اور دیگر نے ایک میٹنگ کی تھی جسے انہوں نے خفیہ طور پر سنا۔ اس میٹنگ میں پولیس پر حملوں اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ گواہ کے مطابق میٹنگ میں یہ پیغام دیا گیا کہ 26 نومبر کو اگر پولیس رکاوٹ ڈالے تو اس پر حملہ کیا جائے، مزاحمت کی جائے، ڈی چوک پہنچ کر توڑ پھوڑ کی جائے۔
عدالت میں اے ایس آئی طارق محمود (آئی ٹی برانچ) نے بیان دیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج پر اکسانے والی ویڈیوز جمع کر کے تفتیشی افسر کے حوالے کیں۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ، پی آئی ڈی سمیت دیگر اداروں سے حاصل کردہ ریکارڈ کے حوالے سے بھی گواہوں نے بیانات قلمبند کروائے۔
سماعت کے دوران عدالت میں مالِ مقدمہ بھی پیش کیا گیا، جس میں چھینا گیا میٹرو سیٹ، گولیوں سے چھلنی پولیس گاڑی، غلیلیں، کنچے، پی ٹی آئی کے جھنڈے، ڈنڈے، جلے ہوئے ٹائر، جلی لکڑیوں کی راکھ، ڈی وی ڈیز اور یو ایس بیز شامل تھیں۔